عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَىَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لاَ. فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَتْ فَارْتَحِلُوا. فَارْتَحَلْنَا، وَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا. فَقُلْتُ لَهَا يَا هَنْتَاهْ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ غَلَّسْنَا. قَالَتْ يَا بُنَىَّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لِلظُّعُنِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat ' Abdullah (the slave of Asma') that during the night of Jam', Hadrat Asma' (may Allah be well pleased with her) got down at al-Muzdalifa and stood up for (offering) the prayer and offered the prayer for some time and then asked, 'O my son! Has the moon set?' I submitted, 'No.' She again prayed for another period and then asked, 'Has the moon set?' I submitted, 'Yes.' So she said that we should set out (for Mina), and we departed and went on till she threw pebbles at the Jamra (Jamrat al-'Aqaba) and then she returned to her dwelling place and offered the morning prayer. I submitted to her, 'O you! I think we have come (to Mina) early in the night.' She replied, 'O my son! The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave permission to the women to do so.'
اردو ترجمہ
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ ان سے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام عبداللہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت اسماء (بنت حضرت ابوبکر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ وہ رات ہی میں مزدلفہ تشریف لائیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد فرمایا: بیٹے! کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، اس لیے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر بعد پھر فرمایا: کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے عرض کیا ہاں، انہوں نے فرمایا: اب آگے چلو (منیٰ کو)۔ چنانچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے، وہ (منیٰ میں) رمی جمرہ فرمانے کے بعد پھر واپس تشریف لائیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر ادا فرمائی۔ میں نے عرض کیا: جناب! یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز پڑھ لی۔ انہوں نے فرمایا: بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔
