عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ فَرَضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَدَقَةَ الْفِطْرِ ـ أَوْ قَالَ رَمَضَانَ ـ عَلَى الذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُعْطِي التَّمْرَ، فَأَعْوَزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى شَعِيرًا، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، حَتَّى إِنْ كَانَ يُعْطِي عَنْ بَنِيَّ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُعْطِيهَا الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا، وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Nafi' that Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) said: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) made Sadaqat al-Fitr — or he said Sadaqa of Ramadan — obligatory upon males and females, free and enslaved, at one Sa' of dates or one Sa' of barley. The people then substituted half a Sa' of wheat as its equivalent. But Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) used to give dates. Once there was a scarcity of dates in Madinah, so he gave barley. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) would give Sadaqat al-Fitr on behalf of every young and old person — he would even give on behalf of my (Nafi's) children. He used to give it to those who accepted it, and people used to give it a day or two before Eid.
اردو ترجمہ
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۂ فطر — یا یہ فرمایا کہ صدقۂ رمضان — مرد، عورت، آزاد اور غلام (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا تھا۔ پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں اس کے برابر قرار دے لیا۔ لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کھجور دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کھجور کا قحط پڑا تو آپ نے جَو صدقہ میں نکالا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما چھوٹے بڑے سب کی طرف سے، یہاں تک کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی صدقۂ فطر نکالا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما صدقۂ فطر ہر فقیر کو جو اسے قبول کرتا، دے دیا کرتے تھے۔ اور لوگ صدقۂ فطر ایک یا دو دن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔
