حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهْىَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا ". تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا. وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حُدِّثْتُ عَنِ الأَعْرَجِ بِمِثْلِهِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered the collection of Zakat. It was reported to him that Ibn Jamil, Khalid bin al-Walid, and Abbas bin Abdul Muttalib had refused to give Zakat. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'What makes Ibn Jamil ungrateful except that he was poor and then Allah and His Messenger enriched him? As for Khalid, you are being unjust to him, for he has dedicated his armor and equipment in the cause of Allah. As for Abbas bin Abdul Muttalib, he is the uncle of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and his Zakat is a charity upon himself, along with an equal amount in addition.' This narration was corroborated by Ibn Abi al-Zinad from his father. And Ibn Ishaq narrated from Abu al-Zinad with the words 'it is upon him along with the like of it' (without the word 'sadaqah'). And Ibn Juraij said that this hadith was narrated to him from al-A'raj in the same manner.
اردو ترجمہ
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، اعرج سے، اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن جمیل یہ شکر نہیں کرتا کہ کل تک وہ فقیر تھا پھر اللہ نے اپنے رسول کی دعا کی برکت سے اسے مالدار بنا دیا۔ باقی رہے خالد تو ان پر تم لوگ ظلم کرتے ہو، انہوں نے تو اپنی زرہیں اور سازوسامان اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کر رکھے ہیں۔ اور عباس بن عبدالمطلب تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں، اور ان کی زکوٰۃ انہی پر صدقہ ہے اور اتنی ہی اور ان کی طرف سے دینی ہے۔ اس روایت کی متابعت ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے کی اور ابن اسحاق نے ابوالزناد سے «هي عليه ومثلها معها» (صدقہ کے لفظ کے بغیر) نقل کیا ہے اور ابن جریج نے فرمایا کہ مجھ سے اعرج سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی گئی۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (9)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح مسلم
بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم …
سنن ابو داؤد
بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا…
سنن نسائی
وَقَالَ عُمَرُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَدَقَةٍ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَنْق…
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهْىَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا ". تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا. وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حُدِّثْتُ عَنِ الأَعْرَجِ بِمِثْلِهِ.
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered the collection of Zakat. It was reported to him that Ibn Jamil, Khalid bin al-Walid, and Abbas bin Abdul Muttalib had refused to give Zakat. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'What makes Ibn Jamil ungrateful except that he was poor and then Allah and His Messenger enriched him? As for Khalid, you are being unjust to him, for he has dedicated his armor and equipment in the cause of Allah. As for Abbas bin Abdul Muttalib, he is the uncle of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and his Zakat is a charity upon himself, along with an equal amount in addition.' This narration was corroborated by Ibn Abi al-Zinad from his father. And Ibn Ishaq narrated from Abu al-Zinad with the words 'it is upon him along with the like of it' (without the word 'sadaqah'). And Ibn Juraij said that this hadith was narrated to him from al-A'raj in the same manner.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، اعرج سے، اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن جمیل یہ شکر نہیں کرتا کہ کل تک وہ فقیر تھا پھر اللہ نے اپنے رسول کی دعا کی برکت سے اسے مالدار بنا دیا۔ باقی رہے خالد تو ان پر تم لوگ ظلم کرتے ہو، انہوں نے تو اپنی زرہیں اور سازوسامان اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کر رکھے ہیں۔ اور عباس بن عبدالمطلب تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں، اور ان کی زکوٰۃ انہی پر صدقہ ہے اور اتنی ہی اور ان کی طرف سے دینی ہے۔ اس روایت کی متابعت ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے کی اور ابن اسحاق نے ابوالزناد سے «هي عليه ومثلها معها» (صدقہ کے لفظ کے بغیر) نقل کیا ہے اور ابن جریج نے فرمایا کہ مجھ سے اعرج سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی گئی۔