Narrated by Hadrat Ibn Sirin: Hadrat Umm 'Atiyya (may Allah be well pleased with her) — an Ansari woman who was among those who had given the pledge of allegiance (to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), blessings and peace of Allah be upon him) — came to Basra in search of a son of hers but could not find him. She narrated to us, 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came to us while we were washing his noble daughter. He stated, "Wash her three times, or five times, or more if you deem it necessary, with water and lote-tree leaves. Put camphor in the final wash. When you are done, inform me."' She said, 'When we finished, he gave us his waist-wrapper (izar) and stated, "Use it to wrap her body." He did not say more than that.' Ibn Sirin said, 'I do not know which of his noble daughters it was.' He (Ayyub) said that Ibn Sirin explained that 'ish'ar' means to wrap the body in it. Likewise, Ibn Sirin (upon him be mercy) used to instruct that for a woman, it should be wrapped around the body, not tied as an izar.
اردو ترجمہ
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ ایوب نے انہیں خبر دی، فرمایا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت اُمّ عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں جو انصار کی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے) بیعت کی تھی۔ وہ بصرہ اپنے ایک بیٹے کی تلاش میں آئی تھیں لیکن وہ نہ مل سکا۔ پھر انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں تین بار یا پانچ بار یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری بار کافور ملا دو۔ جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو۔ انہوں نے فرمایا: جب ہم فارغ ہوئیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ازار ہمیں عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا: اسے ان کے بدن سے لپیٹ دو۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی صاحبزادی تھیں۔ (ایوب نے فرمایا) اور ابن سیرین نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ اسی طرح ابن سیرین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے، ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (19)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى…
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه و…
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه و…
Narrated by Hadrat Ibn Sirin: Hadrat Umm 'Atiyya (may Allah be well pleased with her) — an Ansari woman who was among those who had given the pledge of allegiance (to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), blessings and peace of Allah be upon him) — came to Basra in search of a son of hers but could not find him. She narrated to us, 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came to us while we were washing his noble daughter. He stated, "Wash her three times, or five times, or more if you deem it necessary, with water and lote-tree leaves. Put camphor in the final wash. When you are done, inform me."' She said, 'When we finished, he gave us his waist-wrapper (izar) and stated, "Use it to wrap her body." He did not say more than that.' Ibn Sirin said, 'I do not know which of his noble daughters it was.' He (Ayyub) said that Ibn Sirin explained that 'ish'ar' means to wrap the body in it. Likewise, Ibn Sirin (upon him be mercy) used to instruct that for a woman, it should be wrapped around the body, not tied as an izar.
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ ایوب نے انہیں خبر دی، فرمایا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت اُمّ عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں جو انصار کی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے) بیعت کی تھی۔ وہ بصرہ اپنے ایک بیٹے کی تلاش میں آئی تھیں لیکن وہ نہ مل سکا۔ پھر انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں تین بار یا پانچ بار یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری بار کافور ملا دو۔ جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو۔ انہوں نے فرمایا: جب ہم فارغ ہوئیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ازار ہمیں عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا: اسے ان کے بدن سے لپیٹ دو۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی صاحبزادی تھیں۔ (ایوب نے فرمایا) اور ابن سیرین نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ اسی طرح ابن سیرین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے، ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔