عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ـ وَكَانَ ضَخْمًا ـ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لاَ أَسْتَطِيعُ الصَّلاَةَ مَعَكَ. فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا، فَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ، وَنَضَحَ لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ بِمَاءٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ. وَقَالَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنِ بْنِ جَارُودٍ لأَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى فَقَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Anas bin Sirin (may Allah have mercy upon him) who said: I heard Hadrat Anas bin Malik al-Ansari (may Allah be well pleased with him) say: A man from among the Ansar (Hadrat Itban bin Malik, may Allah be well pleased with him) — who was very stout — submitted to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): 'I am unable to offer the prayer with you.' He prepared food for the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), invited him to his house, and sprinkled water on the edge of a mat. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) offered two rak'at of prayer on it. So-and-so, the son of so-and-so bin Jarud, asked Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him): Did the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) offer the Duha prayer? He replied: 'I never saw him offer it except on that day.'
اردو ترجمہ
حضرت انس بن سیرین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، فرمایا: انصار میں سے ایک شخص (حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ) — جو بہت موٹے تھے — نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر بلایا اور ایک چٹائی کے کنارے کو پانی سے صاف کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ فلاں بن فلاں بن جارود نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نمازِ چاشت پڑھتے تھے؟ فرمایا: میں نے اس روز کے سوا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
