عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ، قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ ؓ، فَقَالَ: اجْمَعِ الْقُرْآنَ، فَإِنَّكَ قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ. وَهَذَا الْكَلَامُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ذَكَرَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَأَدْخَلْنَاهُ فِي مُسْنَدِ أَبِي بَكْرٍ، لِحُسْنِ إِسْنَادِهِ، وَلِعِزَّةِ مَا يَرْوِي عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ. أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ ؓ، فَقَالَ: اجْمَعِ الْقُرْآنَ، فَإِنَّكَ قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ. وَهَذَا الْكَلَامُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ذَكَرَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَأَدْخَلْنَاهُ فِي مُسْنَدِ أَبِي بَكْرٍ، لِحُسْنِ إِسْنَادِهِ، وَلِعِزَّةِ مَا يَرْوِي عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ.
انگریزی ترجمہ
Al-Abbas ibn Abd al-Azim narrated to us, he said: Abd ar-Rahman ibn Mahdi narrated to us from Sufyan from Mansur from Mujahid from Hadrat Abu Bakr as-Siddiq (may Allah be well pleased with him).
اردو ترجمہ
علی بن فضل کرابیسی نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بیان کیا، زہری سے، عبید بن سباق سے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: قرآن جمع کرو، کیونکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔ اور یہ کلام ہمیں کسی کا معلوم نہیں جس نے اس لفظ کے ساتھ روایت کیا ہو سوائے ابو بکر کے، اور ابراہیم بن سعد نے اس کلمے کا ذکر کیا۔ اور اس حدیث کو عمارہ بن غزیہ نے زہری سے، خارجہ بن زید سے، ان کے والد سے روایت کیا ہے، پس ہم نے اسے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مسند میں داخل کیا اس کی اچھی سند کی وجہ سے، اور اس لیے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت کی جاتی ہے وہ کم ہے۔
