عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا شَيْئًا مَا نُحِبُّ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهِ وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: أَوَ قَدْ وَجَدْتُمْ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ذَاكَ صَرِيحُ الإيمَانِ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurayra related, "Some people said, 'Beloved Messenger of Allah, we feel in ourselves something which we do not want to speak about and we have been in that state since sunrise.' He said, 'Have you really felt like that?' 'Yes,' they said. He said, 'That is clear belief.'"
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اپنے دلوں میں ایسی چیز محسوس کرتے ہیں جس کا ذکر کرنا ہم ناپسند سمجھتے ہیں اور طلوعِ آفتاب سے ہم اس حالت میں ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم ایسا محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: یہ صریح ایمان ہے۔
