عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - وَكَانَ رَجُلاً جَمِيلاً - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَىَّ الْجَمَالُ وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى حَتَّى مَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ - إِمَّا قَالَ بِشِرَاكِ نَعْلِي . وَإِمَّا قَالَ بِشِسْعِ نَعْلِي - أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَلِكَ قَالَ " لاَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrates: A beautiful man came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I love beauty, and I have been granted some of it as you can see, to the extent that I do not wish anyone to surpass me even by as much as the strap of my sandal. Is this pride? He stated: No; rather pride is to reject the truth and to look down upon people.
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک خوبصورت شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خوبصورتی پسند ہے اور مجھے اس سے نوازا بھی گیا ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی زیب و زینت میں میری جوتی کے تسمے کے برابر بھی مجھ سے بڑھے۔ کیا یہ تکبّر ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ تکبّر یہ ہے کہ حق بات کو جھٹلائے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
