عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ حَدِيثًا، مِنْ رَجُلٍ فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ اكْتُبْهُ لِي فَأَتَى بِهِ مَكْتُوبًا مُذَبَّرًا دَخَلَ الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ عَلَى عُمَرَ وَعِنْدَهُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٌ وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ عُمَرُ لِطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٍ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ مَالِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَدَقَةٌ إِلاَّ مَا أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ وَكَسَاهُمْ إِنَّا لاَ نُورَثُ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ عَلَى أَهْلِهِ وَيَتَصَدَّقُ بِفَضْلِهِ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ سَنَتَيْنِ فَكَانَ يَصْنَعُ الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu al-Bakhtari narrates: I heard a hadith from a man which I liked, so I said: Write it down for me. He brought it written. (The hadith is:) Hadrat 'Abbas and Hadrat ' Ali (may Allah ennoble his countenance) came to Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) while Hadrat Talhah, Hadrat Zubayr, Hadrat ' Abd al-Rahman and Hadrat Sa'd (may Allah be well pleased with them all) were present with him. The two of them (Hadrat 'Abbas and Hadrat 'Ali) were disputing. Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) said to them all: Do you not know that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Every property of a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) is charity'?
اردو ترجمہ
حضرت ابوبختری فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی جو مجھے اچھی لگی، میں نے کہا: اسے میرے لیے لکھ دو۔ تو وہ لکھی ہوئی لے آئے۔ (وہ حدیث یہ ہے:) حضرت عباس اور حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان کے پاس حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم موجود تھے۔ وہ دونوں (حضرت عباس اور حضرت علی) آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سب سے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نبی کا ہر مال صدقہ ہے۔
