Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ . قَالَ " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ " صُومِي عَنْهَا " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَلاَ يُعْرَفُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا حَلَّتْ لَهُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ شَيْءٌ جَعَلَهَا لِلَّهِ فَإِذَا وَرِثَهَا فَيَجِبُ أَنْ يَصْرِفَهَا فِي مِثْلِهِ . وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ .
English Translation
Abdullah bin Buraidah narrated from his father:"I was sitting with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) when a woman came to him and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I gave a slave girl to my mother in charity and she died.' He said: 'Your reward is already established, and your right to inherit her has returned it (that Sadaqah) to you.' She submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! There was a month of fasting due on her, shall I perform the fast for her?' He said: 'Fast on her behalf.' She submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! She never performed Hajj, shall I perform Hajj for her?' He said: 'Yes, perform Hajj on her behalf
Urdu Translation
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی، اب وہ مر گئیں ( تو اس لونڈی کا کیا ہو گا؟ ) آپ نے فرمایا: ”تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اُسے تمہیں لوٹا بھی دیا“۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے“، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔ ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہو جائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے، ۴- اور بعض کہتے ہیں: صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہو جائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے ( یہ زیادہ افضل ہے ) ۔
