Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُ لأَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَىَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَىَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بِهَذَا أَوْ شِبْهِهِ فِي الْمُذَاكَرَةِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ صَفْوَانَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ وَغَيْرُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ أَصَحُّ وَأَشْبَهُ إِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لاَ يُعْطَوْا . وَقَالُوا إِنَّمَا كَانُوا قَوْمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَأَلَّفُهُمْ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى أَسْلَمُوا . وَلَمْ يَرَوْا أَنْ يُعْطَوُا الْيَوْمَ مِنَ الزَّكَاةِ عَلَى مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَنْ كَانَ الْيَوْمَ عَلَى مِثْلِ حَالِ هَؤُلاَءِ وَرَأَى الإِمَامُ أَنْ يَتَأَلَّفَهُمْ عَلَى الإِسْلاَمِ فَأَعْطَاهُمْ جَازَ ذَلِكَ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
English Translation
Hadrat Sa'eed bin Al-Musayyab narrated from Safwan bin Umayyah who (may Allah be well pleased with him) said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave to me on the Day of Hunain, and he was the most hated creature to me. But he did not stop giving to me until he was the most loved creature to me
Urdu Translation
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے روز مجھے دیا، آپ مجھے ( فتح مکہ سے قبل ) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حسن بن علی نے مجھ سے اس حدیث یا اس جیسی چیز کو مذاکرہ میں بیان کیا، ۲- اس باب میں حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- صفوان کی حدیث معمر وغیرہ نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے جس میں «عن صفوان بن أمية» کے بجائے «أن صفوان بن أمية قال أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم» ہے گویا یہ حدیث یونس بن یزید کی حدیث سے زیادہ صحیح اور اشبہ ہے، یہ «عن سعید بن المسیب عن صفوان» کے بجائے «عن سعيد بن مسيب أن صفوان» ہی ہے ۱؎، ۴- جن کا دل رجھانا اور جن کو قریب لانا مقصود ہو انہیں دینے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے چند لوگ تھے جن کی آپ تالیف قلب فرما رہے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے لیکن اب اس طرح ہر کسی کو زکاۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، سفیان ثوری، اہل کوفہ وغیرہ اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر کوئی آج بھی ان لوگوں جیسی حالت میں ہو اور امام اسلام کے لیے اس کی تالیف قلب ضروری سمجھے اور اسے کچھ دے تو یہ جائز ہے، یہ شافعی کا قول ہے۔
