Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَاإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَقَالَ: سَمِعْتُعَطِيَّةَ بْنَ قَيْسٍ،وَأَشْيَاخَنَا، يَقُولُونَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي قِرَاءَةِ يَاءٍ، وَتَاءٍ، فَاقْرَءُوا عَلَى يَاءٍ، وَذَكِّرُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ مُذَكَّرٌ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَسَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا، يَقُولُونَ: الْيَاءُ عَامَّةٌ، وَالتَّاءُ خَاصَّةٌ.
English Translation
'Atiyyah ibn Qays and our scholars used to say: "When you differ regarding a ya' and a ta' in the recitation, then recite with ya' and make the Quran masculine, for it is masculine." Abu Bakr said: "I heard our scholars say: 'Ya' is general and ta' is specific.'"
Urdu Translation
عطیہ بن قیس رحمہ اللہ اور ہمارے شیوخ فرماتے تھے: جب یاء اور تاء کی قراءت میں اختلاف ہو تو یاء کے ساتھ پڑھو، کیونکہ قرآن مذکر ہے پس تم اس کو مذکر پڑھو۔ ابو بکر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اپنے شیوخ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یاء عام ہوتی ہے اور تاء خاص۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 64]
