Arabic (Original)
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَهُ قَالَ: إِنَّفِي حِجْرِي يَتِيمًا، أَفَأَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ؟، قَالَ:" إِنْ كُنْتَ تَرُدُّ نَادَّتَهَا، وَتَلُوطُ حَوْضَهَا، وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ، وَلا نَاهِكٍ فِي حَلْبٍ".
English Translation
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'And how could you take it while you have been intimate with one another?' (al-Nisa: 21): How can you take back the dowry when you have already been together as husband and wife?
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص نے ان سے پوچھا: میری تحویل میں ایک یتیم ہے، کیا میں دودھ پی سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: اگر تو اس کے جانور کو چھوڑتا ہے، اس کے حوض کو صاف کرتا ہے، اور اس کے خارش والے حصوں کو آرام دیتا ہے، تو پی لے، بشرطیکہ نسل کو نقصان نہ ہو اور دودھ نکالنے میں کمی نہ ہو۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 571]
