Arabic (Original)
نَاعَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْخُصَيْفٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ سورة البقرة آية 284 , قَالُوا: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنُحَدِّثُ أَنْفُسَنَا بِشَيْءٍ مَا يَسُرُّنَا أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلائِقِ، وَإِنَّا لَنَا كَذَا وَكَذَا؟، قَالَ:" أَوَقَدْ لَقِيتُمْ هَذَا؟ ذَلِكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ سورة البقرة آية 285 الآيَتَيْنِ.
English Translation
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'Whether you reveal what is in yourselves or conceal it, Allah will bring you to account for it' (al-Baqarah: 284): This applies to suspicion — what a person harbors in his heart about his brother Muslim.
Urdu Translation
مجاہد رحمہ اللہ نے﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ﴾کے بارے میں فرمایا: یہ آیت صحابہ پر سخت گزری، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! ہم اپنے دل میں کچھ ایسی باتیں پاتے ہیں جن کا ظاہر ہونا ہمیں پسند نہیں، تو کیا ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: کیا تمہیں واقعی یہ مسئلہ درپیش ہے؟ یہی تو خالص ایمان ہے۔ پھر اللہ عزوجل نے﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ﴾کی آیات نازل فرمائیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 474]
