Arabic (Original)
نَاأَبُو عَوَانَةَ، عَنْأَبِي بِشْرٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 256 , قَالَ: نَزَلَتْ فِي الأَنْصَارِ، قَالَ: قُلْتُ: خَاصَّةً؟، قَالَ: خَاصَّةً، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ إِذَا كَانَتْ نَزْرَةً، أَوْ مِقْلاةً، تَنْذُرُ لإِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّهُ فِي الْيَهُودِ، تَلْتَمِسُ بِذَلِكَ طُولَ بَقَائِهِ، فَجَاءَ الإِسْلامُ وَفِيهِمْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ , قَالَتِ الأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِيهِمْ، فَسَكَتَ عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 256، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ خُيِّرَ أَصْحَابُكُمْ، فَإِنِ اخْتَارُوكُمْ فَهُمْ مِنْكُمْ، وَإِنِ اخْتَارُوهُمْ فَأَجْلُوهُمْ مَعَهُمْ".
English Translation
Sa'id ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) narrated regarding the verse: 'There is no compulsion in religion' (al-Baqarah: 256): It was revealed about the Ansar. I asked: Specifically about them? He said: Yes, specifically. Among them, when a woman had few children or was barren, she would vow that if she bore a child, she would give it to the Jews, seeking long life for the child. When Islam came, there were such children among the Jews. When Banu Nadir were expelled, the Ansar said: O Messenger of Allah, our sons and brothers are among them! The Messenger of Allah (peace be upon him) remained silent. Then this verse was revealed: 'There is no compulsion in religion' (al-Baqarah: 256). The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Your companions have been given a choice. If they choose you, they are from you. If they choose them, expel them with them.'
Urdu Translation
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾کے بارے میں فرمایا: یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا:”خاص طور پر ان کے لیے؟“انہوں نے کہا:”ہاں، خاص طور پر ان کے لیے۔“کیونکہ انصار میں جب کوئی عورت کم اولاد والی یا بانجھ ہوتی تو وہ نذر مانتی کہ اگر اسے بچہ ہوا تو وہ اسے یہودیوں میں دے دے گی تاکہ اس کی عمر دراز ہو۔ جب اسلام آیا تو انصار میں ایسے بچے موجود تھے جو یہودیوں کے ساتھ تھے۔ پھر جب بنو نضیر کو جلاوطن کیا گیا تو انصار نے عرض کیا:”یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے بیٹے اور بھائی ان کے ساتھ ہیں؟“تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے خاموشی اختیار فرمائی، تب یہ آیت نازل ہوئی:﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہارے ساتھیوں کو اختیار دیا گیا ہے، اگر وہ تمہیں اختیار کریں تو وہ تم میں شامل ہوں گے، اور اگر وہ انہیں اختیار کریں تو انہیں ان کے ساتھ بھیج دو۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 428]
