Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَاهُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَامُغِيرَةُ، عَنْمُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَكَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ،لَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ، وَلإِيَّايَ عَنَى بِهَا" فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، وَقَدْ حَصَرَنَا الْعَدُوُّ، وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ، فَكَانَتِ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ هَوَامَّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ"وَنَزَلَتِ الآيَةُ.
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever recites 'Ha-Mim al-Dukhan' on Friday night will wake up forgiven."
Urdu Translation
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ آیت میری وجہ سے نازل ہوئی اور میرا ہی اس سے مراد تھا﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾، ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور ہم محرم تھے، دشمن نے ہمیں محصور کر رکھا تھا، میرا سر بالوں سے بھرا ہوا تھا، تو کیڑے میرے چہرے پر گر رہے تھے، نبیصلی اللہ علیہ وسلممیرے پاس سے گزرے تو فرمایا: لگتا ہے تمہارے سر کے کیڑے تمہیں تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: تو سر منڈواؤ، اور پھر یہ آیت نازل ہوئی۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 292]
