Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ شَىْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ فَقَالَ " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي " . فَمَاتَتْ لَيْلاً فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا فَقَالُوا كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
English Translation
It is narrated that Hadrat Abu Umamah bin Sahi (may Allah be well pleased with him) said: "A woman from among the people of Al-'Awali fell sick and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was the best in visiting the sick. He said: 'When she dies, inform me.' She died at night and they buried her without telling the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The following morning he asked about her and they said: we did not like to wake you, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' So he went to her grave and offered the funeral prayer for her and said Takbir four times
Urdu Translation
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا“ تو وہ رات میں مر گئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کے روضۂ اقدس پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔
