Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني بُسْر بن عُبيد الله الحضرمي، حدثني أبو إدريس الخَوْلاني، أنه سمع حُذَيفةَ بن اليَمَان يقول: كان الناس يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرِّ مخافة أن يُدرِكَني، فقلت: يا رسول الله، إنا كنا في جاهلية وشرٍّ، فجاءَنا اللهُ بهذا الخير، فهل بعد هذا الخير من شرّ؟ قال:"نعم، وفيه دَخَنٌ" قلت: وما دَخَنُهُ؟ قال:"قومٌ يَهدُون بغير هَدْيِي، يُعرَفُ منهم ويُنكَر" قلت: وهل بعد ذلك الخير من شرّ، قال:"نعم، دُعاةٌ على أبواب جهنَّم، من أجابهم إليه قَذَفُوه فيها" قلت: يا رسول الله، صِفْهم لنا، قال:"هم من جِلْدتِنا، ويتكلَّمون بألسنتِنا" قلت: فما تأمرُني إن أدركتُ ذلك؟ قال:"تَلَزَمُ جماعةَ المسلمين وإمامَهم" قلت: فإن لم يكن لهم إمامٌ ولا جماعة؟ قال:"فاعتزِلْ تلك الفِرَق كلها، ولو أنْ تَعَضَّ بأصلِ شجرةٍ حتى يُدرِكَك الموتُ وأنت كذلك"(1).هذا حديث مخرَّج في"الصحيحين" هكذا، وقد خرَّجاه أيضًا مختصرًا من حديث الزهري عن أبي إدريس الخَوْلاني(2)، وإنما خرَّجتُه في كتاب العلم لأني لم أجِدْ للشيخين حديثًا يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجَّةٌ غير هذا، وقد خرَّجتُ في هذا الموضع أحاديثَ من هذا الباب ما لم يُخرجاه. الحديث الأول منها:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 386 - قد خرجاه
English Translation
Hudhayfah ibn al-Yaman narrated: People used to ask the Messenger of Allah (peace be upon him) about good, but I used to ask him about evil, fearing it would overtake me. I said: "O Messenger of Allah, we were in a state of ignorance and evil, then Allah brought us this good. Will there be evil after this good?" He said: "Yes, and in it there will be dukhan (smokiness/corruption)." I said: "What is its dukhan?" He said: "People who guide by other than my guidance; you will approve of some of their actions and disapprove of others." I said: "Will there be evil after that good?" He said: "Yes, callers at the gates of Hellfire; whoever responds to them, they will throw him into it." I said: "O Messenger of Allah, describe them to us." He said: "They are from our own people and speak our language." I said: "What do you command me if I reach that time?" He said: "Cling to the community of the Muslims and their leader." I said: "What if they have no leader and no community?" He said: "Then withdraw from all those factions, even if you have to bite onto the root of a tree, until death comes to you while you are in that state." Al-Hakim said: This hadith is narrated in the two Sahihs. He included it in the Book of Knowledge because he found no hadith in the two Sahihs that establishes consensus (ijma') as a proof other than this one.
Urdu Translation
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے خیر (بھلائی) کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپصلی اللہ علیہ وسلمسے شر (برائی) کے بارے میں پوچھتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھے پا نہ لے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر اللہ ہمیں اس خیر (اسلام) کے پاس لے آیا، تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں، اور اس میں«دخن»(دھواں/کدورت) ہوگی۔“میں نے پوچھا: اس کی کدورت کیا ہے؟ فرمایا:”ایسے لوگ جو میری ہدایت کے علاوہ کسی اور طریقے پر چلیں گے، ان کی کچھ باتیں اچھی ہوں گی اور کچھ بری۔“میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے بعد پھر کوئی شر ہوگا؟ فرمایا:”ہاں، جہنم کے دروازوں پر کھڑے داعی (بلانے والے) ہوں گے، جو ان کی پکار پر لبیک کہے گا وہ اسے اس میں جھونک دیں گے۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان کی صفات بتائیے، فرمایا:”وہ ہماری ہی قوم سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔“میں نے عرض کیا: اگر میں ایسا دور پاؤں تو مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا:”مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ چمٹے رہنا۔“میں نے عرض کیا: اگر نہ ان کی کوئی جماعت ہو اور نہ کوئی امام؟ فرمایا:”پھر ان تمام فرقوں سے الگ ہو جانا، چاہے تمہیں کسی درخت کی جڑ ہی چبانی پڑے یہاں تک کہ اسی حال میں تمہیں موت آ جائے۔“یہ حدیث اسی طرح”صحیحین“(بخاری و مسلم) میں موجود ہے، اور امام زہری کی روایت سے مختصراً بھی مروی ہے۔ میں نے اسے یہاں 'کتاب العلم' میں اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ شیخین کے ہاں اجماع کے حجت ہونے پر اس سے بہتر کوئی دلیل نہیں ملی۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 391]
