Arabic (Original)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللَّهُ بهَا يومَ الْقِيَامَة وَمَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Who among you is fasting today?" Abu Bakr said: "I am." He said: "Who among you has followed a funeral today?" Abu Bakr said: "I have." He said: "Who among you has fed a poor person today?" Abu Bakr said: "I have." He said: "Who among you has visited a sick person today?" Abu Bakr said: "I have." The Messenger of Allah (peace be upon him) then said: "Whoever combines all of these in a single day will enter Paradise." Reported by Muslim.
Urdu Translation
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ جس شخص نے ہم پر کوئی احسان کیا تھا ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، لیکن انہوں نے جو کچھ ہمیں عطا کیا ہے، اس کی جزا روز قیامت اللہ ہی انہیں عطا فرمائے گا۔ اور کسی شخص کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے، اگر میں نے کسی شخص کو خلیل (جگری دوست) بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو! تمہارا صاحب، اللہ کا خلیل ہے۔“سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6026]
