Arabic (Original)
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ فَكَانَ أَحَدُنَا يَنْكِحُ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ)
English Translation
Hadrat Ibn Mas'ud said :When we were on an expedition along with God’s Messenger and had no women with us we asked whether we should not have ourselves castrated, but he forbade us to do that. Then he granted us licence to contract temporary marriages, and one would marry a woman giving a garment as dower up to a fixed date. Then ‘Abdallah recited, “You who believe, do not make unlawful the good things which God has made lawful for you” (Al-Qur’an 5:87). (Bukhari and Muslim.)
Urdu Translation
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوے میں جاتے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ ہوتیں۔ ہم نے عرض کیا: کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں متعہ کی اجازت دی تو ہم میں سے ایک شخص ایک کپڑے کے عوض ایک مدت تک عورت سے نکاح کر لیتا۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو۔ (بخاری و مسلم)
