Arabic (Original)
وَعَن الفضلِ بن عبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم
English Translation
Al-Fadl b. ‘Abbas who rode behind God’s messenger told that on the evening of ‘Arafa and the morning of Jam' (Here the name is clearly used for al-Muzdalifa) when the people returned, he said to them, “Preserve a quiet demeanour.” He held back his shecamel till he entered Muhassir which is a part of Mina, and said, “Get small pebbles for the lapidation of the jamra” He said that God’s messenger kept on raising his voice in the talbiya till he threw pebbles at the jamra. Muslim transmitted it.
Urdu Translation
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، فرماتے ہیں کہ آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح جب لوگ روانہ ہوئے تو فرمایا: سکون سے چلو! اور آپ اپنی اونٹنی کو روک رہے تھے یہاں تک کہ محسّر میں داخل ہوئے جو منیٰ کا حصہ ہے، فرمایا: تم چھوٹے کنکریاں اٹھاؤ جن سے جمرہ کو مارا جاتا ہے۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ جمرہ (عقبہ) کو کنکری ماری۔ (مسلم)
