Arabic (Original)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيش يقولك: «صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ» وَيَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» . وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
English Translation
Hadrat Jabir said that when God’s Messenger preached his eyes became red, his voice rose and his anger became violent, so that he was like one warning an army and saying, “The enemy has made a morning attack on you.” “The enemy has made an evening attack on you.” He would Say, “The last hour and I have been sent like these two,” and he would join his forefinger and his middle finger. Muslim transmitted it.
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور غصہ شدید ہو جاتا، گویا آپ کسی لشکر کو خبردار کرنے والے ہیں اور فرما رہے ہیں: دشمن نے صبح یا شام تم پر حملہ کر دیا ہے۔ آپ ارشاد فرماتے: میری بعثت اور قیامت اس طرح ہے (اور اپنی دو انگلیوں کو ملا کر دکھاتے)۔ پھر فرماتے: سب سے بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ ہے، اور سب سے بری چیز (دین میں) نئی ایجاد ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (مسلم)
