Arabic (Original)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ فِيهِ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالاَ أَخْرَجَنَا الْجُوعُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا أَخْرَجَنِي الْجُوعُ " . فَذَهَبُوا إِلَى أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الأَنْصَارِيِّ فَأَمَرَ لَهُمْ بِشَعِيرٍ عِنْدَهُ يُعْمَلُ وَقَامَ يَذْبَحُ لَهُمْ شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَكِّبْ عَنْ ذَاتِ الدَّرِّ " . فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً وَاسْتَعْذَبَ لَهُمْ مَاءً فَعُلِّقَ فِي نَخْلَةٍ ثُمَّ أُتُوا بِذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَتُسْئَلُنَّ عَنْ نَعِيمِ هَذَا الْيَوْمِ " .
English Translation
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he heard that the Messenger of Allah entered the mosque and found Hadrat Abu Bakr as-Siddiq and Umar ibn al-Khattab there. He questioned them and they said, "Hunger has driven us out." The Beloved Messenger of Allah said, "And hunger has brought me out." They went to Abu'l-Haytham ibn at- Tayyihan al-Ansari. He ordered that some barley that was in the house be prepared and he got up to slaughter a sheep for them. The Messenger of Allah said, "Leave the one with milk." He slaughtered a sheep for them and brought them sweet water and it was hung on a palm-tree. Then they were brought the food and ate it and drank the water. The Beloved Messenger of Allah recited, "Then, on that day, you will be asked concerning pleasure." (Sura 102 ayat 8).
Urdu Translation
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تباہ کرے اللہ یہود کو حرام ہوا ان پر چربی کا کھانا تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کے دام کھائے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے تھے کہ اے بنی اسرائیل تم پانی پیا کرو اور ساگ پات جو کی روٹی کھایا کرو اور گیہوں کی روٹی نہ کھاؤ اس کا شکر ادا نہ کر سکوگے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آئے وہاں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب کو پایا ان سے پوچھا تم کیسے آئے انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں بھی اسی سبب سے نکلا پھر تینوں آدمی ابوالہیثم ابن تیہان انصاری کے پاس گئے انہوں نے جو کی روٹی پکانے کا حکم کیا اور ایک بکری ذبح کرنے پر مستعد ہوئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دودھ والی کو چھوڑ دے انہوں نے دوسری بکری ذبح کی اور میٹھا پانی مشک میں بھر کر درخت سے لٹکا دیا پھر کھانا آیا تو سب نے کھایا اور وہی پانی پیا تب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہی نعیم ہے جس کے بارے میں اس روز تم پوچھے جاؤ گے۔
