Arabic (Original)
897 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ، فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي، فَوَفَى جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمِّي، أُمُّ رُومَانَ، وَإنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ، وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي، فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا لاَ أَدْرِي مَا تُرِيد بِي؛ فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ، وَإِنِّي لأَنْهِجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِى، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي، ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ؛ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
English Translation
Narrated Aisha: The Prophet (peace be upon him) married me when I was six years old. We came to Medina and stayed with Banu al-Harith ibn Khazraj. I fell ill and my hair fell out, then grew back as a bob. My mother, Umm Ruman, came to me while I was on a swing with my playmates. She called me and I came to her not knowing what she wanted. She took my hand and stood me at the door of the house while I was panting, until I calmed down somewhat. Then she took some water and wiped my face and head, then brought me inside the house. There were women of the Ansar in the house who said: "With goodness and blessing, and upon the best omen." She handed me over to them, and they tidied me up. Nothing startled me except the Messenger of Allah (peace be upon him) coming in the forenoon, and my mother handed me over to him. I was nine years old at that time.
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال تھی، پھر ہم مدینہ (ہجرت کر کے) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا، یہاں آ کر مجھے بخار چڑھا اور اس وجہ سے میرے بال گرنے لگے، پھر مونڈھوں تک خوب بال ہو گئے، پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی، انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہو گئی، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے، آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازے کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا، تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا، پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں، وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی:«عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ»”خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو“، میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالے کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی، اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممیرے پاس تشریف لائے اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے خود مجھے سلام کیا، میری عمر اس وقت نو سال تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 897]
