Arabic (Original)
459 صحيح حديث أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ، إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ فَسَكَتَتْ، فَقَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ وَسَكَتَتِ الْفَرسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ، فَلَمَّا اجْتَرَّهُ، رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ حتَّى مَا يَرَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ، فَخَرَجَتْ حَتَّى لاَ أَرَاهَا قَالَ: وَتَدْرِي مَا ذَاكَ قَالَ: لاَ؛ قَالَ: تِلْكَ الْمَلاَئِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا، لاَ تَتَوَارَى مِنْهُمْ
English Translation
Narrated Usayd ibn Hudayr: While he was reciting Surah al-Baqarah at night and his horse was tied beside him, the horse became agitated. He stopped reciting and the horse calmed down. He resumed reciting and the horse became agitated again. He stopped and it calmed down. He recited again and it became agitated again. He stopped because his son Yahya was near the horse, and he feared it might trample him. When he moved the boy back, he looked up at the sky and saw something like a canopy with what appeared to be lamps in it, rising up until he could no longer see it. In the morning, he told the Prophet (peace be upon him). He said: "You should have kept reciting, O Ibn Hudayr!" He said: "I feared it might trample Yahya, who was near it. So I raised my head and went to him." The Prophet said: "Those were the angels listening to you. If you had continued reciting, the people would have seen them in the morning — they would not have been hidden from them."
Urdu Translation
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات کے وقت میں﴿سورة البقرة﴾کی تلاوت کر رہا تھا اور میرا گھوڑا میرے پاس ہی بندھا ہوا تھا، اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو میں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا، پھر میں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا، اس مرتبہ بھی جب میں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا، تیسری مرتبہ میں نے جب تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا، میرے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، میں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا، پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا، صبح کے وقت یہ واقعہ میں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کیا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے، تلاوت بند نہ کرتے (تو بہتر تھا)۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا، میں نے سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا، پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے، پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟“سیدنا اسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نہیں، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ فرشتے تھے، تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے، اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے، وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 459]
