Arabic (Original)
256 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسِ(وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا)قَالَ: أُنْزِلَتْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ، فَسبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ؛ فَقَالَ اللهُ تَعَالَى(وَلا تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا)لاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ حَتَّى يَسْمعَ الْمُشْرِكُونَ، وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ تُسْمِعُهُمْ(وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً)أَسْمِعْهُمْ وَلاَ تَجْهَرْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ
English Translation
Narrated Ibn Abbas, regarding the verse: "And do not raise your voice in your prayer nor lower it" — He said: It was revealed while the Messenger of Allah (peace be upon him) was hiding in Mecca. When he led his Companions in prayer, he would raise his voice in reciting the Quran. When the polytheists heard it, they insulted the Quran, the One who revealed it, and the one who brought it. So Allah revealed to His Prophet: "Do not raise your voice in your prayer" — so the polytheists hear it — "nor lower it" — from your Companions. Seek a way between that.
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت مبارکہ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾[سورة الإسراء: 110]کے بارے میں بیان کیا کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممکہ میں چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے، جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز میں آواز بلند کرتے تو مشرکین سنتے اور قرآن مجید اور اس کے نازل کرنے والے (اللہ) کو اور اس کے لانے والے (جبریل) کو گالی دیتے (اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو بھی)، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بالکل آہستہ، یعنی آواز اتنی بلند بھی نہ کرو کہ مشرکین سن لیں اور اتنی آہستہ بھی نہ کرو کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کرو، مطلب یہ کہ اتنی آواز سے پڑھیں کہ آپ کے اصحاب سن لیں اور قرآن سیکھ لیں، اس سے زیادہ چلا کر نہ پڑھیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 256]
