Arabic (Original)
213 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحيَّنُونَ الصَّلاَةَ، لَيْسَ يُنَادَى لَهَا؛ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا مِثْلَ بُوقِ الْيَهُودِ؛ فَقَالَ عُمَرُ رضي الله عنه: أَوَلاً تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ
English Translation
Narrated Ibn Umar: When the Muslims arrived in Medina, they used to gather and estimate the time for prayer, with no one calling them. One day they discussed the matter. Some said: "Use a bell like the Christians." Others said: "Use a horn like the Jews." Umar said: "Why not appoint a man to call for the prayer?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O Bilal, stand up and call for the prayer."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب مسلمان (ہجرت کر کے) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے، اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا، کسی نے کہا: نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا: یہودیوں کی طرح نرسنگا (بگل) بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے؟ اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے) فرمایا:«يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ»”بلال! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 213]
