Arabic (Original)
1826 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلاً مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ، خَبِيثٍ مُخْبِثٍ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ، الْيَوْمَ الثَّالِثَ، أَمَرَ بَرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلاَّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ وَيَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَن أَيَسُرُّكُمْ أنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لاَ أَرْوَاحَ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "There is a tree in Paradise under whose shade a rider would travel for a hundred years without passing beyond it."
Urdu Translation
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دیے گئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدانِ جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے۔ جنگِ بدر کے خاتمے کے تیسرے دن آپصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے آپ کی سواری پر کجاوہ باندھا گیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمروانہ ہوئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اصحاب بھی آپ کے ساتھ تھے، صحابہ نے کہا: غالباً آپصلی اللہ علیہ وسلمکسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ آخر آپصلی اللہ علیہ وسلماس کنویں کے کنارے آکر کھڑے ہو گئے اور کفارِ قریش کے مقتول سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر انہیں آواز دینے لگے:”اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بے شک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہو گیا، تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جو وعدہ (عذاب کا) تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟“سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے: یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں جن میں کوئی جان نہیں ہے؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1826]
