Arabic (Original)
1665 صحيح حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ. عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: هاذِهِ المَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَلَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتكَشَّفُ، فَادْعُ الله لِي. قَالَ: «إِنْ شِئْتِ، صَبَرْتِ؛ وَلَكِ الجَنَّةُ. وَإِنْ شِئْتِ، دَعَوْتُ الله أَنْ يُعَافِيكِ»فَقَالَتْ: أَصْبِرُ. فَقَالَتْ: إِنِّي أَتكَشَّفُ: فَادْعُ الله أَنْ لاَ أَتكَشَّفَ. فَدَعَا لَهَا
English Translation
Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The likeness of the believers in their mutual love, mercy, and compassion is that of the body: when one limb ails, the rest of the body responds with sleeplessness and fever."
Urdu Translation
عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھا دوں؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں، انہوں نے کہا کہ (یہ) سیاہ عورت نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے، میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجیے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں۔“اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی، پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے، آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلماللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے لیے دعا فرمائی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1665]
