Arabic (Original)
1513 صحيح حديث السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنَ أَخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated the lengthy hadith about a man from the Children of Israel who asked another to lend him a thousand dinars. The borrower placed the money in a piece of wood and threw it into the sea, trusting in Allah as his guarantor. Allah delivered the wood with the money to the lender, who found the thousand dinars when he split it open.
Urdu Translation
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری خالہ مجھے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں لے گئیں اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے وضو کیا اور میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ پھر میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہرِ نبوت دیکھی جو آپصلی اللہ علیہ وسلمکے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی (یا کبوتری کا انڈا) (وضو کا بچا ہوا پانی پاک تھا تب ہی تو اسے پیا گیا۔ پس جو لوگ آبِ مستعمل کو ناپاک کہتے ہیں وہ بالکل غلط کہتے ہیں)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1513]
