Arabic (Original)
1469 صحيح حديث أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَلَمَّا جَاءَ وَادِيَ الْقُرَى، إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَصْحَابِهِ اخْرُصُوا وَخَرَصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ فَقَالَ لَهَا: أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَلَمَّا أَتَيْنَا تَبُوكَ، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلاَ يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ فَعَقَلْنَاهَا وَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ؛ فَقَامَ رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ بِجَبَلِ طَيِّء وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ فَلَمَّا أَتى وَادِيَ الْقُرَى، قَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَمْ جَاءَ حِدِيقَتُكِ قَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، خَرْصَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: هذِهِ طَابَةُ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا، قَالَ: هذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ قَالُوا: بَلَى قَالَ: دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ، أَوْ دُورُ بَنِي الْحارثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ يَعْنِي خَيْرًا
English Translation
Abu Humayd al-Sa'idi (may Allah be pleased with him) narrated: We went on the expedition of Tabuk with the Prophet (peace be upon him). When we reached Wadi al-Qura, there was a woman in her garden. The Prophet estimated the produce of the garden and told us to calculate it. When they returned, the produce matched his estimate exactly.
Urdu Translation
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ تبوک کے لیے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ جا رہے تھے، جب آپصلی اللہ علیہ وسلموادیِ قریٰ (مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک قدیم آبادی) سے گزرے تو ہماری نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے باغ میں کھڑی ہے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا:”اس کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ (کہ اس میں کتنی کھجور نکلے گی)“، حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے دس وسق کا اندازہ لگایا، پھر اس عورت سے فرمایا:”یاد رکھنا اس میں سے جتنی کھجور نکلے“، جب ہم تبوک پہنچے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے اور جن کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں“، چنانچہ ہم نے اونٹ باندھ لیے اور آندھی بڑے زور کی آئی، ایک شخص کھڑا ہوا تھا تو ہوا نے اسے جبلِ طئ پر جا پھینکا، اور ایلہ کے حاکم (یوحنا بن روبہ) نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو سفید خچر اور ایک چادر کا تحفہ بھیجا، آں حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے تحریری طور پر اسے اس کی حکومت پر برقرار رکھا، پھر جب وادیِ قریٰ (واپسی میں) پہنچے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اسی عورت سے پوچھا:”تمہارے باغ میں کتنا پھل آیا تھا؟“اس نے کہا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اندازے کے مطابق دس وسق آیا تھا، اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں مدینہ جلد جانا چاہتا ہوں، اس لیے جو کوئی میرے ساتھ جلدی چلنا چاہے وہ میرے ساتھ جلد روانہ ہو“، پھر مدینہ دکھائی دینے لگا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ ہے طابہ!“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے احد پہاڑ دیکھا تو فرمایا:”یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں“، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا میں انصار کے سب سے اچھے خاندان کی نشاندہی نہ کروں؟“صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ ضرور کیجئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بنو نجار کا خاندان، پھر بنو عبد الاشہل کا خاندان، پھر بنو ساعدہ کا، یا (یہ فرمایا کہ) بنو حارث بن خزرج کا خاندان“اور فرمایا:”انصار کے تمام ہی خاندانوں میں خیر ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1469]
