Arabic (Original)
1431 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ، إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلاَّ أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ثمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ
English Translation
Narrated Aisha, the wife of the Prophet (peace be upon him): When someone from her family died and the women gathered for that and then dispersed — except her family and close ones — she would order a pot of talbinah (barley broth) to be cooked. Then tharid (bread soaked in broth) was made and the talbinah was poured over it. She would say: "Eat from it, for I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Talbinah soothes the heart of the sick person and removes some of the grief.'"
Urdu Translation
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کا یہ معمول تھا کہ) جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں، صرف گھر والے اور خاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ رضی اللہ عنہا ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں، وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا، پھر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے تھے:«التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ»”تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1431]
