Arabic (Original)
1175 صحيح حديث جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ رضي الله عنه، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ، لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مَنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ(وَالضُّحى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى)
English Translation
Narrated Jundub ibn Sufyan (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) fell ill and did not get up to pray at night for two or three nights. A woman came and said: "O Muhammad, I hope your devil has left you. I have not seen him come near you for two or three nights." Then Allah the Almighty revealed: "By the morning brightness, and the night when it is still, your Lord has not forsaken you, nor has He become displeased." [al-Duha: 1-3]
Urdu Translation
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبیمار پڑ گئے اور دو یا تین راتوں کو (تہجد کے لیے) نہیں اٹھ سکے۔ پھر ایک عورت (ابو لہب کی بیوی عوراء) آئی اور کہنے لگی: اے محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، دو یا تین راتوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے پاس وہ نہیں آیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الضحیٰ نازل فرمائی:﴿وَالضُّحٰی ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰی ۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰی﴾[سورة الضحى: 1-3]یعنی قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔[سورة الضحى: 1-3]آخر تک۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1175]
