Arabic (Original)
1042 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَبُو بَكْرٍ، وَهُمَا مَاشِيَانِ، فَوَجَدَانِي أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالي فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ
English Translation
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) narrated: I fell ill and the Prophet (peace be upon him) came to visit me along with Abu Bakr, both walking on foot. They found me unconscious. The Prophet (peace be upon him) performed ablution and poured his ablution water on me, and I regained consciousness. I saw the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, how should I dispose of my wealth? What should I decide about my property?" He did not answer me until the verse of inheritance was revealed.
Urdu Translation
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ بیمار پڑا تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل میری عیادت کو تشریف لائے، ان بزرگوں نے دیکھا کہ مجھ پر بے ہوشی غالب ہے، چنانچہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف رکھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال میں کیا کروں؟ کس طرح اس کا فیصلہ کروں؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفرائض/حدیث: 1042]
