Arabic (Original)
أنامَعْمَرٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْإِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الأَسَدِيِّ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: إِنِّي لَبِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْكُمُ السَّلامُ، فَلَجَّ فَلَمَّا دَخَلَ، إِذَا هُوَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيُّ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ، وَذَلِكَ فِي بَحْرِ الظَّهِيرَةِ؟ قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ، فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ، وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِنَ الْجَارِي، قَتْلاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَتَى ذَاكَ؟ قَالَ:" ذَاكَ الْهَرْجُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ:" حِينَ لا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي إِذَا أَدْرَكْتُ ذَاكَ؟ قَالَ:" اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَيْكَ وَادْخُلْ دَارَكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ:" فَادْخُلْ بَيْتَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ:" فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ، ثُمَّ اصْنَعْ هَكَذَا، ثُمَّ قَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ، وقُلْ رَبِّيَ اللَّهُ حَتَّى تُقْتَلَ عَلَى ذَلِكَ".
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever does not give up false speech and acting upon it, Allah has no need for him to give up his food and drink."
Urdu Translation
وابصہ اسدی نے بیان کیا کہ بے شک میں کوفے میں اپنے گھر کے اندر تھا کہ میں نے سنا: السلام علیکم (کیا میں داخل ہو سکتا ہوں؟) میں نے کہا کہ وعلیکم السلام (داخل ہو جائیں)۔ جب وہ اندر آئے تو اچانک عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن! ملاقات کا یہ کون سا وقت ہے؟ اور وہ دوپہر کا وقت تھا۔ فرمایا کہ دن مجھ پر لمبا ہو گیا، میں نے یاد کیا کہ کس کے ساتھ باتیں کروں۔ کہا کہ وہ مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی حدیثیں بیان کرنے لگے اور میں انہیں بیان کرنے لگا۔ پھر وہ شروع ہوئے مجھے حدیث بیان کرنے لگے، کہا کہ میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”ایک فتنہ ہوگا، سونے والا اس میں لیٹنے والے سے بہتر ہوگا، لیٹنے والا اس میں بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا، بیٹھنے والا اس میں کھڑے سے بہتر ہوگا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہوگا، پیدل چلنے والا، سوار سے بہتر ہوگا، سوار دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، اس (فتنے) کے سب مقتولین آگ میں ہوں گے۔“میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! اور یہ کب ہوگا؟ فرمایا:”وہ”ہرج“(قتل) کے ایام میں ہوگا۔“کہا کہ میں نے کہا اور”ہرج“کے ایام کب ہوں گے؟ فرمایا:”جب آدمی اپنے ہم نشین سے محفوظ و مامون نہ ہوگا۔“کہا کہ میں نے کہا: اگر میں وہ زمانہ پا لوں تو آپصلی اللہ علیہ وسلممجھے کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ”اپنی جان اور اپنے ہاتھوں کو روک لینا اور اپنے محلے میں داخل ہو جانا۔“میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! آپصلی اللہ علیہ وسلمکا خیال ہے، اگر وہ مجھ پر میرے محلے میں داخل ہو گیا تو؟ کہا کہ میں نے کہا: آپصلی اللہ علیہ وسلمکا کیا خیال ہے کہ اگر مجھ پر میرے گھر میں داخل ہوا گیا؟ تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اپنی مسجد میں داخل ہو جانا، پھر اسی طرح کرنا۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنا دائیں ہاتھ کلائی پر بند کیا۔”اور کہا: میرا رب اللہ ہی ہے، یہاں تک کہ تو اسی پر قتل کر دیا جائے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 279]
