Arabic (Original)
حَدَّثَنَايَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: ثَنَاعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: ثَنَازَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ فِي الصَّلاةِ أَوْ نَقَصَ، قَالَ مَنْصُورٌ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّاسِي: ذَلِكَ عَلْقَمَةُ أَوْ عَلْقَمَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَأَخْبَرَنَاهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَذَكَرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ".
English Translation
Narrated Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) led us in prayer and either added or omitted something. Mansur said: Ibrahim said that the one who was uncertain was Alqamah, or it was Alqamah narrating from Abdullah. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) completed the prayer, he turned to face us, and we said: O Messenger of Allah, has something new been revealed about the prayer? He said: "What is it?" We informed him of what he had done. He then folded his leg, faced the Qiblah, and performed two prostrations, then turned to us and said: "If something new had been revealed about the prayer, I would have informed you. But I am a human being; I remember as you remember and I forget as you forget. If I forget, remind me. And if any of you has doubt in his prayer, let him estimate what is closest to the correct number, complete it accordingly, then give the salutation, and perform two prostrations."
Urdu Translation
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں نماز پڑھائی، تو اس میں کمی یا بیشی کر دی، ابراہیم کہتے ہیں: یہ شبہ علقمہ کو ہوا یا علقمہ نے عبد اللہ بن مسعود سے نقل کیا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے نماز مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف منہ کیا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ فرمایا: کیا ہوا؟، ہم نے بتایا، تو آپ نے پاؤں موڑا اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف رخ انور کر کے فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نیا حکم نازل ہوتا، تو میں آپ کو آگاہ کر دیتا لیکن میں بھی انسان ہوں، آپ کی طرح یاد بھی رکھتا ہوں اور بھول بھی جاتا ہوں، جب میں بھول جاؤں، تو یاد کروا دیا کریں۔ جسے بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ زیادہ صحیح کا تعین کرے، پھر اس کے مطابق نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کر لے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 244]
