Arabic (Original)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَاسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ الْهِلالِيُّ، عَنْأَيُّوبَ، عَنِابْنِ سِيرِينَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتِي الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرَ، وَإِمَّا الْعَصْرَ، أَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ كَالْمُغْضَبِ، فَذَهَبَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلاةُ قَصُرَتِ الصَّلاةُ، فَتَقَدَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَصُرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ:أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ".
English Translation
Narrated Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) led us in one of the two afternoon prayers -- either the Zuhr or the Asr -- and I think it was the Asr. He prayed two rak'ahs then gave the Salam. He then went forward and sat by a palm-tree trunk, looking angry. Those who left quickly were saying: 'The prayer has been shortened! The prayer has been shortened!' Then Dhul-Yadain came forward and said: 'O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten?' The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Is Dhul-Yadain telling the truth?" They said: 'Yes.' So he prayed two more rak'ahs, then gave the Salam, then said the Takbir and prostrated, then said the Takbir and raised his head, then said the Takbir and prostrated, then said the Takbir and raised his head.
Urdu Translation
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں زوال آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی ایک ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز تھی، دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر غصے سے آگے بڑھے اور کھجور کے تنے کے پاس بیٹھ گئے، جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے کہتے چلے گئے کہ نماز کم ہو گئی ہے، نماز کم ہو گئی ہے، ذوالیدین رضی اللہ عنہ آ گے بڑھ کر پوچھنے لگے: اللہ کے رسول! نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: آپ نے (مزید) دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر تکبیر کہہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 243]
