Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ «إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ قَدْرِ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا مَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ»
English Translation
Muhammad ibn Ali ibn Duhaym informed us — Ahmad ibn Hazim al-Ghifari informed us — Ubayd Allah ibn Musa narrated to us — Isra'il informed us — from Ibrahim ibn Muhajir — from Muwarriq al-Ijli — from Hadrat Abu Dharr (may Allah be well pleased with him) who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited {Has there come upon man a period of time when he was not a thing worth mentioning} [al-Insan 1] until he completed it. Then he stated: "Indeed, I see what you do not see and I hear what you do not hear. The heaven has groaned, and it has every right to groan. There is not a space of four fingers in it except that there is an angel placing his forehead in prostration to Allah."
Urdu Translation
محمد بن علی بن دُحیم نے ہمیں خبر دی — احمد بن حازم الغفاری نے ہمیں خبر دی — عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا — اسرائیل نے ہمیں خبر دی — ابراہیم بن مہاجر سے — مُوَرِّق العجلی سے — حضرت ابو ذرّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے {کیا انسان پر زمانے کا ایک ایسا وقت نہیں گزرا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا} [الانسان 1] تلاوت فرمائی یہاں تک کہ اسے مکمل فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا: بے شک میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان نے چرچراہٹ کی آواز دی ہے اور اُسے اِس کا حق ہے۔ اُس میں چار انگلیوں کی بھی جگہ نہیں مگر وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے لیے سجدے میں رکھے ہوئے ہے۔
