Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَتَعْلَمُ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي؟» قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ وَيَسْتَفْتِحُونَ فَيَقُولُ لَهُمُ الْخَزَنَةُ أَوَ قَدْ حُوسِبْتُمْ فَيَقُولُونَ بِأَيِّ شَيْءٍ نُحَاسَبُ وَإِنَّمَا كَانَتْ أَسْيَافُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى مِتْنَا عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيَقِيلُونَ فِيهِ أَرْبَعِينَ عَامًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا النَّاسُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» على شرط البخاري ومسلم
English Translation
Hadrat 'Abdullah ibn 'Amr (may Allah be well pleased with them both) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to him: 'Do you know the first group to enter Paradise from my nation?' He said: 'Allah and His Messenger know best.' He stated: 'The Muhajirun. They will come on the Day of Resurrection to the gate of Paradise and ask for it to be opened. The keepers will say: Have you already been held to account? They will say: For what would we be held to account? Our swords were on our shoulders in the cause of Allah until we died upon that.' He said: 'Then the gate will be opened for them, and they will rest therein for forty years before the rest of the people enter it.' This hadith is sound meeting the criteria of both Shaykhs, and they did not record it.
Urdu Translation
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «کیا تم جانتے ہو کہ میری اُمت میں سے جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ کون ہوگا؟» عرض کیا: اللہ اور اُس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: «مہاجرین۔ وہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آئیں گے اور کھلوانے کا کہیں گے۔ دربان کہیں گے: کیا تمہارا حساب ہو چکا؟ وہ کہیں گے: ہمارا کس بات کا حساب؟ ہماری تلواریں اللہ کی راہ میں ہمارے کندھوں پر رہیں یہاں تک کہ ہم اسی حالت میں مر گئے۔» فرمایا: «پھر اُن کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ اُس میں چالیس سال آرام کریں گے لوگوں کے داخل ہونے سے پہلے۔» یہ حدیث صحیح ہے شیخین کی شرط پر اور اُنہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
