Arabic (Original)
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ : سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَهُ رَمَضَانَانِ، فَقَالَ : أَكَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ؟، قَالَ : لَمْ يَكُنْ بَعْدُ، فَقَالَ : اتْرُكْ بَلِيَّتَهُ حَتَّى تَنْزِلَ، قَالَ : فَدَلَسْنَا لَهُ رَجُلًا، فَقَالَ : قَدْ كَانَ، فَقَالَ" يُطْعِمُ عَنْ الْأَوَّلِ مِنْهُمَا ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا، لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ "
English Translation
It is narrated that Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) was asked about a man who missed two Ramadans. He said: 'Has this happened or not?' He said: 'It has not happened yet.' He said: 'Leave the calamity until it descends.' Then they sent someone to him in disguise who said: 'It has happened.' He then said: 'He feeds thirty poor people for the first one, one poor person for each day.'
Urdu Translation
روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے دو رمضان چھوڑ دیے۔ فرمایا: کیا یہ واقع ہوا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا: ابھی نہیں ہوا۔ فرمایا: مصیبت کو چھوڑو یہاں تک کہ نازل ہو۔ پھر انہوں نے ایک شخص چھپا کر ان کے پاس بھیجا جس نے کہا: واقع ہو چکا ہے۔ تب فرمایا: پہلے رمضان کے بدلے تیس مسکینوں کو کھانا کھلائے، ہر دن کے بدلے ایک مسکین۔
