Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَأَلَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ : كَيْفَ تَجِدُ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ؟، فَقَالَ كَعْبٌ :" نَجِدْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُولَدُ بِمَكَّةَ ، وَيُهَاجِرُ إِلَى طَابَةَ ، وَيَكُونُ مُلْكُهُ بِالشَّامِ ، وَلَيْسَ بِفَحَّاشٍ، وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يُكَافِئُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، أُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ، يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ سَرَّاءَ، وَضَرَّاءَ وَيُكَبِّرُونَ اللَّهَ عَلَى كُلِّ نَجْدٍ، يُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ، وَيَأْتَزِرُونَ فِي أَوْسَاطِهِمْ، يُصَفُّونَ فِي صَلاتِهِمْ كَمَا يُصَفُّونَ فِي قِتَالِهِمْ، دَوِيُّهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، يُسْمَعُ مُنَادِيهِمْ فِي جَوِّ السَّمَاءِ "
English Translation
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) asked Ka'b al-Ahbar: 'How do you find the description of the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in the Torah?' Ka'b (may Allah be well pleased with him) said: 'We find him as Muhammad ibn Abdullah; he will be born in Makkah and will migrate to Tabah (Madinah), and his dominion will be in Syria. He is neither vulgar nor one who raises his voice in the marketplaces. He does not repay evil with evil, but rather pardons and forgives. His nation are those who praise abundantly; they praise Allah in prosperity and adversity, they praise Allah at every station and glorify Him at every elevation. They perform ablution upon their extremities and tie their garments at their waists. They form rows in their prayer as they form rows in their battle. Their humming in their mosques is like the humming of bees. Their caller can be heard in the expanse of the sky.'
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کعب الاحبار سے پوچھا: آپ تورات میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صفت کیسی پاتے ہیں؟ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہم انہیں یوں پاتے ہیں: محمد بن عبداللہ، مکہ میں پیدا ہوں گے اور طابہ (مدینہ) کی طرف ہجرت کریں گے اور ان کی سلطنت شام میں ہوگی۔ نہ فحش گو ہیں نہ بازاروں میں شور مچانے والے۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف فرماتے اور بخش دیتے ہیں۔ ان کی امت بہت حمد کرنے والی ہے، خوشی اور تکلیف میں اللہ کی حمد کرتے ہیں، ہر منزل پر اللہ کی حمد کرتے ہیں اور ہر بلندی پر اس کی تکبیر کہتے ہیں۔ اپنے اعضاء کا وضو کرتے ہیں اور اپنی کمروں پر تہبند باندھتے ہیں۔ نماز میں ایسے صف بندی کرتے ہیں جیسے جنگ میں کرتے ہیں۔ ان کی مسجدوں میں ان کی گونج شہد کی مکھیوں کی گونج جیسی ہوتی ہے۔ ان کے مؤذن کی آواز آسمان کی فضا میں سنائی دیتی ہے۔
