Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ :" إِذَا تَطَهَّرَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْمَحِيضِ، ثُمَّ رَأَتْ بَعْدَ الطُّهْرِ مَا يَرِيبُهَا، فَإِنَّمَا هِيَ رَكْض��ةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فِي الرَّحِمِ، فَإِذَا رَأَتْ مِثْلَ الرُّعَافِ، أَوْ قَطْرَةِ الدَّمِ، أَوْ غُسَالَةِ اللَّحْمِ، تَوَضَّأَتْ وُضُوءَهَا لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ تُصَلِّي فَإِنْ كَانَ دَمًا عَبِيطًا الَّذِي لَا خَفَاءَ بِهِ، فَلْتَدَعْ الصَّلَاةَ "، قَالَ أَبُو مُحَمَّد : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ : " إِذَا كَانَ أَيَّامُ الْمَرْأَةِ سَبْعَةً، فَرَأَتْ الطُّهْرَ بَيَاضًا، فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَشْرِ، فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ صَحِيحٌ، فَإِنْ رَأَتْ الطُّهْرَ دُونَ السَّبْعِ، فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ، فَلَا يَجُوزُ، وَهُوَ حَيْضٌ " ، وسُئِلَ عَبْد اللَّهِ : تَقُولُ بِهِ؟، قَالَ : نَعَمْ
English Translation
Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) said: "If a woman purifies herself from menstruation, then sees something suspicious after purification, it is merely a thrust from Shaytan in the womb. If she sees something like nosebleed, or a drop of blood, or like meat-washing water, she should perform ablution for prayer and pray. But if it is fresh red blood that is unmistakable, she should leave prayer." Abu Muhammad said: I heard Yazid ibn Harun say: "If a woman's period is seven days and she sees purity (white discharge) and gets married, then sees blood between that and ten days, the marriage is valid. But if she sees purity before seven days and gets married, then sees blood, it is not permissible, as it is menstruation." Abdullah was asked: "Do you hold this view?" He said: "Yes."
Urdu Translation
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: جب عورت حیض سے پاک ہو جائے پھر طہر کے بعد کوئی مشتبہ چیز دیکھے تو یہ رحم میں شیطان کا ایک دھکا ہے۔ اگر نکسیر جیسا، یا خون کا ایک قطرہ، یا گوشت دھونے کے پانی جیسا دیکھے تو نماز کے لیے وضو کرے اور نماز پڑھے۔ لیکن اگر تازہ سرخ خون ہو جو واضح ہو تو نماز چھوڑ دے۔ ابو محمد نے کہا: میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا: اگر عورت کے حیض سات دن ہوں اور سفیدی دیکھ کر نکاح کر لے، پھر سات سے دس دن کے درمیان خون دیکھے تو نکاح جائز و صحیح ہے۔ لیکن اگر سات دن سے پہلے طہر دیکھ کر نکاح کرے پھر خون آئے تو جائز نہیں، اور وہ حیض ہے۔ عبد اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
