Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَسٌ خَادِمُكَ. قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ ".
English Translation
Narrated Hadrat Abdullah bin 'Amr (may Allah be well pleased with them both): The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to me, "O Hadrat Abdullah! I have been informed that you fast during the day and pray all night." I submitted, "Yes, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He stated, "Do not do that. Fast and break your fast, pray and sleep, for your body has a right over you, your eyes have a right over you, and your wife has a right over you. It is sufficient for you to fast three days in every month, for every good deed is rewarded tenfold, and that will be like fasting the entire year." I insisted, so it became harder for me. I said, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I have the strength." He stated, "Then fast like the fasting of Dawud (blessings and peace of Allah be upon him) and no more." I asked, "What was the fasting of Dawud (blessings and peace of Allah be upon him)?" He stated, "Half the year — fasting one day and breaking the fast the next." In his old age, Hadrat Abdullah (may Allah be well pleased with him) used to say, "I wish I had accepted the concession.
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابوالعباس شاعر سائب نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! مجھے خبر دی گئی ہے کہ تم دن کو روزے رکھتے ہو اور رات بھر نماز پڑھتے ہو۔ میں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہ کرو، روزے بھی رکھو اور کھاؤ بھی، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہارے لیے کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے اور یوں پورے سال کے روزے ہو جاتے ہیں۔ میں نے زیادہ سختی کی تو مجھ پر سختی ہو گئی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! مجھ میں طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو اور اس سے زیادہ مت رکھو۔ میں نے پوچھا داؤد علیہ السلام کے روزے کیسے تھے؟ فرمایا: آدھا سال یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑھاپے میں فرماتے تھے: کاش میں نے رخصت قبول کر لی ہوتی۔
