حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَى عَجُزِ رَاحِلَتِهِ، وَكَانَ الْفَضْلُ رَجُلاً وَضِيئًا، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ، فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ ".
English Translation
Narrated Hadrat Abdullah bin Abbas (may Allah be well pleased with them both): Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) made Hadrat Al-Fadl bin Abbas (may Allah be well pleased with him) ride behind him on the day of Nahr (slaughtering). Al-Fadl was a handsome man. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stopped to give people verdicts. In the meantime, a beautiful woman from the tribe of Khath'am came to seek the verdict of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). Al-Fadl started looking at her as her beauty attracted him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) looked behind while Al-Fadl was looking at her; so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) held out his blessed hand backwards and caught the chin of Al-Fadl and turned his face to the other side in order that he should not gaze at her. She said, "O the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! The obligation of performing Hajj enjoined by Allah on His devotees has become due on my father who is an old man and who cannot sit firmly on the riding animal. Can I perform Hajj on his behalf?" He stated, "Yes, you may.
Urdu Translation
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی، کہا مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا۔ حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوبصورت آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو فتویٰ دینے کے لیے ٹھہرے ہوئے تھے۔ اتنے میں خثعم قبیلے کی ایک خوبصورت عورت آئی جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے فتویٰ پوچھنا چاہتی تھی۔ حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے اور اس کا حسن انہیں بھلا لگا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو اپنا دست مبارک پیچھے کی طرف لے جا کر حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹھوڑی پکڑ کر ان کا چہرہ اس عورت کی طرف سے پھیر دیا۔ اس عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے اور میرے والد بہت بوڑھے ہیں، سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَى عَجُزِ رَاحِلَتِهِ، وَكَانَ الْفَضْلُ رَجُلاً وَضِيئًا، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ، فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ ".
Narrated Hadrat Abdullah bin Abbas (may Allah be well pleased with them both): Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) made Hadrat Al-Fadl bin Abbas (may Allah be well pleased with him) ride behind him on the day of Nahr (slaughtering). Al-Fadl was a handsome man. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stopped to give people verdicts. In the meantime, a beautiful woman from the tribe of Khath'am came to seek the verdict of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). Al-Fadl started looking at her as her beauty attracted him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) looked behind while Al-Fadl was looking at her; so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) held out his blessed hand backwards and caught the chin of Al-Fadl and turned his face to the other side in order that he should not gaze at her. She said, "O the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! The obligation of performing Hajj enjoined by Allah on His devotees has become due on my father who is an old man and who cannot sit firmly on the riding animal. Can I perform Hajj on his behalf?" He stated, "Yes, you may.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی، کہا مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا۔ حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوبصورت آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو فتویٰ دینے کے لیے ٹھہرے ہوئے تھے۔ اتنے میں خثعم قبیلے کی ایک خوبصورت عورت آئی جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے فتویٰ پوچھنا چاہتی تھی۔ حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے اور اس کا حسن انہیں بھلا لگا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو اپنا دست مبارک پیچھے کی طرف لے جا کر حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹھوڑی پکڑ کر ان کا چہرہ اس عورت کی طرف سے پھیر دیا۔ اس عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے اور میرے والد بہت بوڑھے ہیں، سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں۔