Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ الْعَصْرَ، ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ وَقَالَ بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لاَ شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ. وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.
English Translation
It is narrated by Hadrat `Uqba bin Al-Harith that (Once) Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) offered the `Asr prayer and then went out walking and saw Al-Hasan playing with the boys. He lifted him on to his shoulders and said, " Let my parents be sacrificed for your sake! (You) resemble the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and not `Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance)," while `Ali was smiling
Urdu Translation
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث نے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شباہت ہے۔ علی کی نہیں۔ یہ سن کر حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہنس رہے تھے ( خوش ہو رہے تھے ) ۔
