Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ. قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، حَتَّى إِذَا حَاذَى بِالشَّجَرَةِ اعْتَرَضَهَا، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ قَامَ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صلى الله عليه وسلم.
English Translation
It is narrated by al-A'mash that I heard al-Hajjaj saying on the pulpit, 'The Surah in which the cow (al-Baqarah) is mentioned, the Surah in which the family of 'Imran is mentioned, and the Surah in which the women (al-Nisa') is mentioned.' Al-A'mash stated, I mentioned this to Ibrahim (al-Nakha'i, upon him be mercy) and he stated, ''Abdur-Rahman bin Yazid told me that he was with Hadrat ' Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) when he performed the Rami of Jamrat al-'Aqabah. He went down the middle of the valley, and when he came near the tree (which was near the Jamra), he stood opposite to it and threw seven small pebbles, saying "Allahu Akbar" on throwing every pebble. Then he stated, "By Him besides Whom none has the right to be worshipped! Here stood the one upon whom Surah al-Baqarah was revealed (blessings and peace of Allah be upon him)."'
Urdu Translation
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حجاج سے سنا، وہ منبر پر سورتوں کا یوں نام لے رہا تھا: وہ سورت جس میں بقرہ (گائے) کا ذکر آیا ہے، وہ سورت جس میں آل عمران کا ذکر آیا ہے، وہ سورت جس میں نساء (عورتوں) کا ذکر آیا ہے۔ اعمش نے فرمایا کہ میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا کہ جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمرہ عقبہ کی رمی فرمائی تو وہ ان کے ساتھ تھے، اس وقت آپ وادی کے نشیب میں اترے اور جب درخت (جو اس وقت وہاں پر تھا) کے برابر نیچے اس کے سامنے ہو کر سات کنکریوں سے رمی فرمائی، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر فرماتے جاتے تھے۔ پھر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہیں وہ ذات بھی کھڑی ہوئی تھی جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔
