Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعْرَانَةِ، وَالتِّبْرُ فِي حِجْرِ بِلاَلٍ، وَهُوَ يَقْسِمُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: اعْدِلْ، فَإِنَّكَ لاَ تَعْدِلُ، فَقَالَ: وَيْلَكَ، فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلُ؟ قَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ، أَوْ: فِي أَصْحَابٍ لَهُ، يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ، لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.
English Translation
Hadrat Jabir said, "The Beloved Messenger of Allah was at al-Ji'rana on the Day of the Battle of Hunayn with the spoils in the custody of Hadrat Bilal. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was dividing them out. A man came up to him and said, 'Be just! You are not being just!' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said, 'Bother you! Who will be just if I am not just?' 'Umar said, 'Messenger of Allah, let me strike off the head of the hypocrite!' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'This man is with his followers who recite the Qur'an and it does not go beyond their throats. They pass through the deen as an arrow passes through the target (i.e. nothing of it remains on the arrow).'"
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جنگ حنین کے دن جِعرانہ میں تھے اور مالِ غنیمت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحویل میں تھا۔ آپ اسے تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہا: انصاف کریں! آپ انصاف نہیں کر رہے! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیرا بھلا ہو! اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون انصاف کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ شخص اپنے ساتھیوں میں سے ہے جو قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ وہ دین سے ایسے نکل جاتے ہیں جیسے تیر شکار سے گزر جاتا ہے (یعنی تیر پر شکار سے کچھ نہیں لگتا)۔
