Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لاَ تَكَلَّمُوا فِي الصَّلاَةِ " . فَرَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ .
English Translation
Hadrat Abdullah (ibn Mas'ud, may Allah be well pleased with him) narrates: 'We used to greet (each other) during the prayer and convey our needs. I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) while he was praying. I greeted him, but he did not return the greeting. I was greatly troubled — about both past and present (wondering if he was displeased). When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) finished the prayer, he said: "Indeed, Allah introduces whatever He wills in His command. And Allah the Almighty has now introduced the ruling that you should not speak during the prayer." Then he (blessings and peace of Allah be upon him) returned my greeting.'
Urdu Translation
حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں: ہم نماز میں سلام کرتے اور اپنی ضرورت کی بات بتاتے تھے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے — میں نے سلام عرض کیا لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ مجھے بڑی پریشانی ہوئی — نئی بھی پرانی بھی (کہ کہیں ناراض تو نہیں ہوئے)۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا: بے شک اللہ اپنے حکم میں جو چاہتا ہے نئی بات جاری فرماتا ہے — اور اللہ جل و عز نے یہ نئی بات جاری فرمائی ہے کہ نماز میں بات نہ کرو۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب دیا۔
