Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْنَقُ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ، عَنْ جَدِّهَا، زَارِعٍ وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرِجْلَهُ - قَالَ - وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ " إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمِ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا قَالَ " بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا " . قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ .
English Translation
Hadrat Zari' (may Allah be well pleased with him) — who was among the delegation of 'Abd al-Qays — narrates: When we arrived in Madinah, we began racing to dismount from our riding animals so we could kiss the hand and foot of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He said: al-Mundhir al-Ashajj waited until he reached his bag, put on his two garments, and then came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to him: You possess two qualities that Allah loves — forbearance and patience. He submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), did I cultivate these qualities myself, or did Allah create me with them? He stated: Rather, Allah created you with them. He submitted: Praise be to Allah Who created me with two qualities that Allah and His Messenger love.
Urdu Translation
حضرت زارع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے — جو عبدالقیس کے وفد میں شامل تھے — انہوں نے فرمایا: جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو ہم جلدی جلدی اپنی سواریوں سے اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا دستِ مبارک اور قدمِ مبارک چومنے لگے۔ انہوں نے فرمایا: منذر اشج نے صبر کیا یہاں تک کہ وہ اپنے تھیلے کے پاس آئے اور اپنے دو کپڑے پہنے پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: حلم اور تحمل۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں خود ان اخلاق کو اختیار کرتا ہوں یا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر پیدا فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ اللہ نے تجھے ان پر پیدا فرمایا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھے ان دو خصلتوں پر پیدا فرمایا جنہیں اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔
