Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ " . قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ أَوْ قَالَ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ " عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ " . أَوْ قَالَ " تَصْبِرُ " . ثُمَّ قَالَ لِي " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا رَأَيْتَ أَحْجَارَ الزَّيْتِ قَدْ غَرِقَتْ بِالدَّمِ " . قُلْتُ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ " عَلَيْكَ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ آخُذُ سَيْفِي وَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي قَالَ " شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا " . قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ " تَلْزَمُ بَيْتَكَ " . قُلْتُ فَإِنْ دُخِلَ عَلَىَّ بَيْتِي قَالَ " فَإِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ ثَوْبَكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرِ الْمُشَعَّثَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
English Translation
Hadrat Abu Dharr (may Allah be well pleased with him) narrates: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated to me: O Hadrat Abu Dharr! I submitted: At your service, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Then he (blessings and peace of Allah be upon him) mentioned a tradition in which he said: What will be your state when death befalls the people so that a grave (its space) will be sold for a slave? I submitted: Whatever Allah and His Messenger choose for me. He stated: Hold on to patience — or he said: Be patient. Then he said to me: O Hadrat Abu Dharr! I submitted: At your service. He stated: What will be your state when you see the Ahjar al-Zayt (a rocky area near Madinah) drenched in blood? I submitted: Whatever Allah and His Messenger choose for me. He stated: Stay with those you belong to (do not plunge into tribulation). I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), shall I not take my sword and put it on my shoulder? He stated: Then you would be joining them in their deeds! I submitted: Then what do you command me? He stated: Stay in your home! I submitted: What if someone enters my home? He stated: If you fear that the gleam of the sword will dazzle your eyes, cast your garment over your face (and accept martyrdom). He will bear both your transgression and his own. Abu Dawud (upon him be mercy) said: No one mentioned al-Mush'ath (a narrator) in this tradition except Hammad ibn Zayd.
Urdu Translation
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حضرت ابوذر! میں نے عرض کیا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے ایک حدیث بیان فرمائی اس میں ہے: تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں پر ایسی موت آئے گی کہ ایک قبر (کے لیے جگہ) ایک غلام کے بدلے بکے گی؟ میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول ہمارے لیے پسند فرمائیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا — یا فرمایا: صبر کرنا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حضرت ابوذر! میں نے عرض کیا: حاضر ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا جب تم احجارِ زیت (مدینے کے قریب ایک پتھریلا مقام) کو خون سے ڈوبا ہوا دیکھو؟ میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جہاں کے تم ہو وہیں رہنا (فتنے میں مت کودنا)۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے! میں نے عرض کیا: پھر مجھے کیا حکم ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اپنے گھر میں رہو! میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہو جائے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہاری آنکھیں خیرہ کر دے گی تو اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا (اور شہید ہو جانا)۔ وہ تمہارے اور اپنے دونوں کے گناہ اٹھائے گا۔ حضرت ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں حماد بن زید کے سوا کسی نے مشعث (راوی) کا نام ذکر نہیں کیا۔
